Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17اپریل1996
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں روایت میں آتا ہے کہ آپ بہت کم بولتے تھے اور دیر دیر تک چپ رہتے تھے (کان طویل الصمت) آپ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ بولے تو خیر بولے ورنہ چپ رہے (فلیقل خیرا اولیصمت)ایک اور روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ جو چپ رہا اس نے نجات پائی (من صمت نجا)
اس طرح کی احادیث سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ کسی انسان کے اوپر اصل فریضہ چپ رہنا ہے نہ کہ بولنا۔سکوت عمومی حکم ہے اور کام صرف استثنائی حکم۔ اجتماعی معاملات میں بولنا انتہائی نازک کام ہے۔ کیوں کہ ایک غلط بول سے ہزار فتنے پیدا ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں جن لوگوں نے خودساختہ طور پر اپنے آپ کو ملت کا رہنما سمجھ لیا اور بے تکان لکھا اور بولنا شروع کردیا۔ مجھ کو وہ سب سے سب لوگ مجرم نظر آتے ہیں۔ اگرچہ بولنے اور لکھنے والوں کی اس بھیڑ میں بڑے بڑے نام ہیں۔ مگر مجھے یقین نہیں کہ ان میں سے کسی ایک شخص نے بھی وہ تمام مراحل طے کئے تھے جس کے بعد کسی فرد کے لیے جائز ہوجاتا ہے کہ وہ لکھے یا بولے۔
یہ نااہل بولنے والے اگر نہ بولتے تو لوگ اپنی پیدائشی فطرت پر قائم رہتے۔ مگر ان بولنے والوں نے اپنے نادانی کے بول سے سارا معاملہ آخری حد تک بگاڑدیا۔