Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29دسمبر1998
1966میں تقریباً دو ہفتہ تک میں لکھنؤ میں تھا۔ اس زمانہ میں انہوں نے اپنی ذاتی معلومات کے بہت سے قصے بتائے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بار مولا ناعبدالماجد دریا بادی اور مولانا ابوالکلا آزاد کے درمیان اس پر بحث ہوئی کہ انگریزی لفظPain and pleasureکا اردو ترجمہ کیا ہے۔ مولانا عبدالماجد دریابادی کا کہنا تھا کہ اس کا صحیح ترجمہ حظ وکرب ہے اور مولانا آزاد کا کہنا تھا ک اس کا ترجمہ نفرت والم ہے۔ جب کچھ طے نہ ہوسکا تو مولانا دریابادی نے جھنجھلاکرکہا کہ آپ نے کسی مشرقی یا مغربی درس گاہ میں تعلیم پائی ہے۔ مولانا آزاد نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا: عین رب المشرقین والمغربین کی درس گاہ کا تعلیم یافتہ ہوں۔
ہمارے علماء اور دانشوروں میں اس قسم کی لفظی بحثیں تو بہت ہوتی رہیں۔ مگر زیادہ گہری بات مجھے ان لوگوں کے یہاں نہیں ملی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری موجودہ نسل کو اپنی پچھلی نسل سے صرف سطحی باتیں مل سکیں۔ زیادہ گہری اور معرفت والی باتوں کی وراثت ہماری پچھلی نسل کے ہماری اگلی نسل کو نہیں پہنچی۔ مجھے خود ہر چیز ذاتی طور پر دریافت کرنا پڑا۔
انسانی زندگی کے بارے میں اپنے ذاتی تجربہ اور مشاہدہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ موجودہ دنیا لذت درد کا تجرب کرنے کی جگ ہے اور آخرت لذت مسرت کا تجربہ کرنے کی جگہ۔ موجودہ دنیا میں لذت درد کو پانے والے لوگ ہی آخرت میں لذت مسرت کے ربانی عطیہ میں حصہ داربنیں گے۔