Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
19اگست1998
مسٹرارن شوری ایک انگریزی جرنلسٹ ہیں۔ انہوں نے انگریزی میں ایک کتاب لکھی ہے۔ جس میں دکھایا گیا ہے کہ شریعت اسلامی عورت کے حق میں بہت بے رحم ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے فقہہ حنفی کی کتابوں سے اس طلاق کی مثالیں دی ہیں جس کو طلاق معلق کہا جاتا ہے۔ مثلاً ایک شوہر اپنی بیوی سے کہے کہ تم اگر پڑوسی کے گھر میں گئی تو تم کو طلاق اس کے بعد اگ وہ عورت کسی وجہ سے پڑوسی کے گھر میں چلی جائے تو اس پر طلاق واقع ہوجائے گی۔ یا شوہر اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے اگر تمہیں غصہ دلایا تو تم پر طلاق اس کے بعد اگر شوہر غصہ میں آکر اپنے لڑکے کو ماردے اور اس کے بعد بیوی کو بھی غصہ آجائے تو اس پر طلاق واقع ہوجائے گی وغیرہ۔
طلاق معلق کا عجیب مسئلہ صرف فقہہ حنفی میں ہے۔ وہ قرآن و حدیث کی کسی نص پر مبنی نہیں بلکہ صرف فقھاء احنان کے اپنے قیاس پر مبنی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ میں مسٹرارن شوری کا صحیح جواب یہ ہے کہ خود اس بے بنیاد مسئلہ کو غلط بتایا جائے۔ نہ کہ مسٹر ارن شوری کو برا کہا جائے۔ لکھنؤ کے ماہنامہ الفرقان (اکتوبر1995) میں مولانا عتیق الرحمن سنبھلی (صاحب زادہ مولانا منظور نعمانی) نے پانچ صفحہ میں اس کا جواب دیا ہے۔ اور اس میں فقہہ حنفی کے مذکورہ مسئلہ کو غلط بتانے کے بجائےخود مسٹر ارن شوری کو برابتایا گیا ہے اور ان کے بارے میں یہ جملہ لکھا گیا ہے کہ (چشم عداوت کو تو ہنر کا بھی عیب نظر آنا لازم ہے) صفحہ۔5۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہم کو فقہی مسئلہ اور قرآن و سنت میں فرق کرنا چاہیے۔ فقہہ حنفی کا اس طرح مغلداز دفاع کوئی اسلامی خدمت نہیں۔ یہ گویا ان لوگوں کا تعاون کرتا ہے جو اس شریعت کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔