Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14جون1998
دہلی (ہمدردیونیورسٹی) میں14-13جون کو فلسطین کے موضوع پر ایک سمینار ہوا۔ اس سمینار کے آرگنائزر ڈاکٹر ظفر الاسلام تھے۔ وہ فلسطین کے موصوع پر ایکسپرٹ سمجھے جاتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے900صفحات پر مشتمل ایک انگریزی کتاب چھاپی جس کا نام یہ ہے:Palestine Documents
ڈاکٹر ظفرالاسلام سے میں نے کہا کہ یہودی علماء یہ کہتے ہیں کہ قرآن میں خود یہ آیت ہے کہ یہودیوں سے خدا کے پیغمبر نے کہا کہ اے میری قوم و ملت اس پاک زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔ (المائدہ21)اب جہاں تک فلسطین پر یہودیوں کے حق کا سوال ہے تو وہ اس قرآنی آیت سے ثابت ہے۔ پھر مسلمان یا عرب فلسطین پر جو دعویٰ کرتے ہیں اس کا ثبوت ان کے پاس کیا ہے، ڈاکٹر ظفر الاسلام اس کے جواب میں جذباتی طور پر مختلف باتیں کہنے لگے،مثلاً یہ کہ یہ حکم اب منسوخ ہوچکا ہے۔ جن یہودیوں کے بارے میں یہ آیت تھی وہ اسرائیلی نسل کے لوگ تھے موجودہ فلسطینی یہودی تو دوسری دوسری نسلوں سے تعلق رکھتے میں یہ آیت ابتدائی یہودیوں کے بارے میں ہے بعد کے یہودی تو بندر اور خنزیر ہوگئے۔
میں نے کہا کہ یہ سب باتیں اصل سوال کی نسبت سے غیر متعلق (Irrelevant)ہیں۔ یہودی جب اپنے حق میں ایک قرآنی نقص پیش کرتہے ہیں تو آپ جیسے لوگوں کو بھی اپنے حق میں ایک قرآنی نقص پیش کرنا چاہیے۔ نقص کو صرف نقص کے ذریعہ کامل جاسکتا ہے نہ کہ غیر متعلق قسم کے دعویٰ اور استنباط سے۔