Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
14مئی1998
احد کی جنگ3ھ میں واقع ہوئی۔ جب یہ معلوم ہوا کہ قریش مکہ کا لشکر مدینہ کے قریب پہنچ چکا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ ایک طبقہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ دوسرے طبقہ نے یہ کہا کہ ہم مدینہ سے باہر جاکر لڑیں گے۔ دوسرے طبقے کی ایک دلیل یہ تھی کہ اگرچہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کریں تو لوگ ہم کو بذدل کہیں گے۔ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دانی طور پر مدینہ میں گھیرکر دفاع کرنے کے حق میں تھے مگر حالات کی نزاکت کی بناپر آپ باہر جانے کے لیے تیار ہوگئے۔ چنانچہ لشکر کے باہر احد پہاڑ کے دامن میں مقابلہ ہوا۔ اس میں آخرکار مسلمانوں کو سخت شکست پیش آئی۔
اس قسم کے معاملات کا فیصلہ بزدلی اور بہادری کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ حقائق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ دوبارہ ٹھیک وہی صورت حال پیش آئی جو غزوہ احد کے موقع پر پیش آئی تھی۔ یعنی قریش مکہ ایک بڑا لشکر لیکر مدینہ کے پاس پہنچ گئے۔ قدیم تجربہ کی بناپر اس پار رسول اور اصحاب رسول مدینہ سے باہر نہیں نکلے بلکہ مدینہ میں ٹھہر کر خندق کی تدبیر سے انکا مقابلہ کیا۔
اگر بزدلی اور بہادری کا معاملہ ہوتا تو رسول اور اصحاب رسول غزوہ خندق کے موقع پر بھی اس طرح مدینہ سے باہر نکلتے جس طرح وہ غزوہ احد کے موقع پر نکلے تھے کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ لوگ پچھلے موقع پر بہادری دیکھاتیں اور دوسرے موقع پر نعوذ باللہ بزدل بن جائیں اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ حقائق کی رعایت کی جاتی ہے۔ چونکہ احد کے تجربہ میں معلوم ہوا تھا کہ مدینہ سے باہر نکلنا اپنے دفاع کو کمزور کرنا ہے اس لیے اس تجربہ کو پھر دوہرایا نہیں گیا۔