Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7اکتوبر1998
دہلی کے ایک مسلمان تاجر نے کہا کہ میں کشمیر گیا گھا اور وہاں کچھ دن قیام کیا۔ وہاں ایک بڑی عجیب بات معلوم ہوئی۔ وہ یہ کہ کشمیری مجاہدین میں زیادہ تر غلط قسم کے نوجوان ہیں۔ ان کا کام ہی لوٹ مارکرنا ہے۔ مجاہدین کا یہ گروہ عملاً وہاں کے داداؤں کا گروہ ہے۔
میں نے کہا کہ یہ صرف کشمیر کے مجاہدین کی بات نہیں، یہی ہر اس مسلم ملک کی بات ہے جہاں مسلم نوجوان جہاد کے نام پر سرگرم ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جہاد (سلح جنگ) صرف حکومت کا کام ہے، وہ عوام کا کام نہیں۔ اسلامی شریعت کے مطابق، صرف ایک قائم شدہ حکومت ہی کو یہ حق ہے کہ وہ کسی قوم یا ملک کے خلاف اعلان جنگ کرے۔ غیر حکومتی سطح پر جب بھی مسلح جنگ چھیڑی جائے گی تو خواہ وہ جہاد کے نام ہو مگر عملی طور پر لازماً ایسا ہوگا کہ سماج کے برے عناصراس میں شامل ہوجائیں گے۔
مذکورہ تاجر سے میں نے پوچھا کہ یہاں کے مسلم نوجوان اگر اس قسم کا کوئی جہاد شروع کریں تو کیا آپ اپنے بیٹے کو اس میں شرکت کی اجازت دیں گے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ میں نے کہا کہ اسی سے آپ ان نام نہا جہادی تنظیموں کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس قسم کی تنظیموں میں شریف گھرانوں کے لڑکے شامل نہیں ہوتے۔ ان میں صرف وہی نوجوان شریک ہوتے ہیں جو بے روزگار، غیر تعلیم یافتہ، یا آوارہ گرد ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد کے نام پر اس قسم کی تنظیمیں بنانا مقدس جہاد کی توہین ہے۔