Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
27دسمبر1998
پیغمبر اسلام کی سنت کو بتانا ہو تو عام طور پر اس قسم کی چیزوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ خزاب، سرمہ، مسواک، عمامہ وغیرہ۔ مگر پیغمبر اسلام کی کچھ اور اس سے زیادہ بڑی سنتیں ہیں۔ ان بڑی سنتوں کو لوگ نہ جانتے اور نہ ان کا اہتمام کرتے۔ انہیں میں سے ایک سنت وہ ہے جس کا ذکر سیرت کی کتابوں میں طائف کے سفر کے ذیل میں آتا ہے۔ طائف سے واپسی کے وقت آپ پر جو غیر معمولی کیفیات طاری تھیں اس کا اندازہ اس دعا سے ہوتا ہے جو اس وقت آپ کی زبان سے نکلی تھی۔ اس وقت آپ نڈھال ہوکرایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور فرمایا اللھم الیک اشکو ضعف قوتی وقلت حیلتی وھوانی علی الباس۔ یا ارحم الراحمین (اے اللہ میں تجھ سے فریاد کرتا ہوں اپنی قوت کی کمی کی اور اسباب کی قلت کی اور لوگوں کے سامنے باقدر ہونے کی۔ اے سب زیادہ رحم کرنے والے)
اس قسم کی دعا کسی کی زبان سے اس وقت نکلتی ہے جب کہ وہ اپنی قوم کے سامنے بے آمیزدین کا پیغام دیتا ہے۔ وہ قوم کے مفروضہ اکابر کے خلاف بولتا ہے۔ وہ ایسی باتیں کہتا ہے جس سے قوم کے مفادات پر زدپڑتی ہے اور قوم کو اپنا وقار مجروح ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ صرف اس وقت کوئی قوم اپنے ایک مغرز شخص کے ساتھ وہ سلوک کرتی ہے جو مکہ اور طائف میں پیغمبر اسلام کے ساتھ کیا گیا۔ جو لوگ قوم کو خوش کرنے والی بولی بولیں، جو قوم کے جذبات کو غذادینے والے ہوں، جو قوم کی پسند اور ناپسند کی رعایت کرکے قوم کے درمیان ہیرو بنے ہوئے ہوں ان پر مذکورہ کیفیت کبھی نہیں گزرے گی، اس لیے مذکورہ قسم کے الفاظ بھی ان کی زبان سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ وہ اس سنت نبوی کا کبھی تجربہ نہیں کریں گے جس کی مثال سفر طائف کی مذکورہ دعا میں نظر آتی ہے۔