Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
7جون1998
نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) میں ہمارے ایک پڑوسی ڈاکٹر جے اروڑا تھے۔ 4جون1998کو ایک دردناک حادثہ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ دہلی کی ایک سڑک پر وہ اپنی ماروتی کارمیں چلاتے ہوئے جارہے تھے۔ سامنے عین سڑک کے اوپر ایک ٹرک تھا۔ وہ سمجھے کہ ٹرک بھی چل رہا ہے اس غلط فہمی کے تحت وہ اپنی گاڑی دوڑاتے رہے مگر وہ ٹرک کھڑاہوا تھا۔ ٹرک کے ڈرائیور نے اپنی گاڑی روکی اور پاس کے اسٹال پر چائے پینے لگا۔ اس کو چائیے تھا کہ اپنا ٹرک سڑک کے کنارے کھڑا کرے مگر اس نے اپنی ٹرک عین سڑک پر کھڑا ےکردیا۔ ڈاکٹر اروڑا کی گاڑی تیزی سے چلتی ہوئی ٹرک کے پیچھے ٹکرا گئی۔ ان کے سر میں سخت چوٹ آئی۔ چنانچہ موقع ہی پر ان کا خاتمہ ہوگیا۔
انڈیا وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے چند دن پہلے فخر کے ساتھ اعلان کیا کہ انڈیا اب ایک سپر پاور اسٹیٹ بن چکا ہے۔ ایٹم بم کو سپر پاور کی علامت سمجھنا بلاشبہ ایک مجرمانہ فعل ہے۔ انڈیا سپرپاور اس وقت ہوگا جب کہ وہاں ڈسپلن او رقانون کی پابندی آجائے۔ جب کوئی ڈرائیور اپنا ٹرک اس طرح سڑک پر نہ کھڑاکرے۔ جب دفتروں میں رشوت کے بغیر کام ہونے لگے۔ جب کمیونٹی کیشن کی سہولتیں معیاری طور پر ملک کے باشندوں کو حاصل ہوجائیں۔ جب عدالتوں میں ایک عام آدمی کو بھی انصاف ملنے لگے۔ جب ترقی کی بنیاد صلاحیت ہو نہ کہ سورس۔ انڈیا سپرپاور اس وقت ہوگا جب کہ ڈاکٹر اروڑا کی بیوہ خاتون اور ان کی دو چھوٹی بچیوں کے لیے یہ موقع ہتا کہ عدالت میں کیس کرکے ٹرک کے مالک سے اتنی بڑی رقم وصول کرسکیں جو ان کے نقصان کی تلافی بن جائے جب کہ امریکہ وغیرہ میں ہوتا ہے۔ موجودہ اتری کی حالت میں انڈیا کو سپر پاور کہنا صرف ایک مسخرہ پن ہے۔