Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
25جولائی1998
حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل بنی آدم خطاء وخیرالخطا ئیں التوابون (مشکوٰۃ المصابیح427/20) یعنی ہر آدمی خطا کارہے۔، اور بہترین خطاکار وہ ہے جو توبہ کرنے والا ہو۔
انسان کی جو فطری بناوٹ ہے اور جس طرح کے ماحول میں اس کو رہنا ہوتا ہے اس کے لازماً نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ بار بار غلطیاں کرتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا کہ الانسان مرکب من الخطاء والسیان۔ یہ غلط کاری عام حالت میں انسان کا مائنس پوائنٹ ہے۔ مگر جس آدمی کو اپنی غلطی سے پلٹنے اور توبہ کرنے کی توفیق ہوجائے۔ اس کے لیے اس کی غلط کاری ایک پلس پوائنٹ بن جاتا ہے۔ اس کی غلطی اس کے لیے روحانی ترقی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اس سلسلہ میں سب سے زیادہ اہم اول اعتراف کا ہے۔ جن لوگوں کا احساس مردہ ہوجائے وہ اپنی علطی پر اعتراف کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔ اس لیے ان کی علطی ان کے لیے کسی نئی ترقی کا زینہ نہیں بنتی۔ اس کے برعکس عین لوگوں کے اندر زندہ احساس پایا جاتا ہو وہ غلطی کرنے کے بعد تڑپ اٹھتے ہیں۔ وہ شدت کے ساتھ عین غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان کی شرمندگی ان کو اندر سے جلادیتی ہے۔ اس طرح ان کے اندر اصلاح اور عمل کا نیا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ جو انہیں روحانی ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔