Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
21اگست1998
پاکستان میں آئین اسلام قانون (Blasplemy Act)بنایاگیا ہے۔ اس کے تحت اب تک کسی مسلمان کو سزا نہیں دی گئی البتہ کئی عیسائیوں کو وہاں عدالتوں نے موت کی سزا دی ہے۔ اگر چہ ان میں سے کسی عیسائی کو عملاً پھانسی پر نہ چڑھایاجاسکا۔
27اپریل1998کو ساہیوال کی عدالت نے ایوب مسیح نامی ایک عیسائی کو توہین اسلام کے جرم میں موت کی سزا سنائی۔ اس کی تفصیل میں نے دہلی کے اخبار مڈڈے (MidDay)کے7مئی1998کے شمارہ میں پڑھی۔ اس کے بعد وہاں کے مسیحی فرقے میں سخت رد عمل ہوا یہاں تک کہ اس کا احتجاج میں ایک رومن کیتھک شپ جان جوزف (Bishop John Joseph)۔6مئی1998اپنی جیپ میں ایک پستول لے کر ساہی وال عدالت کے گراؤنڈ میں پہنچا اور اپنے سر میں گولی مارکر اپنے آپ کو ہلاک کرلیا۔ اس نے کہا کہ میں اس ظلم کی طرف دنیا کو متوجہ کرنے کے لیے ایسا کررہا ہوں۔(ٹائمس آف انڈیا9مئی1998)
پاکستان50سال سے زیادہ عرصہ سے قائم ہے۔ اس لمبی مدت میں وہاں اقامت اسلام کا کوئی کام تو نہ ہوسکا۔ البتہ اہانت اسلام کے نام پر وہاں کی غیر مسلم اقلیت کو موت کی سزائیں سنائی جارہی ہیں۔ یہ یقینی طور پر اسلام نہیں ہے بلکہ سرکشی ہے۔ پاکستان کے تمام علماء اور غیر علماءنےبراہ راست یا بالواسطہ طور پر اس سزاکو درست قرار دیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایوب مسیح تو شاید کم تر درجہ کا مجرم ہو مگر پاکستانی قوم اپنے اس عمل سے اللہ کی نظر میں زیادہ بڑا مجرم ثابت ہورہی ہے۔ یہ میرے نزدیک پاکستان کے لوگ اس قرآنی آیت کے مصداق ہیں انا مرذن الناس بالنروتبون القلم (التوبہ44)