Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یکم جولائی1998
صحیح البخاری میں ایک صحابی عمار بن یاسر کی مسجد سے ایک حدیث نقل کی گئی ہے۔ یہ حدیث بخاری میں بطور اثر نقل کی گئی ہے۔ قیاسادہ ایک قول رسول ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: تکون من جمعھن فقد جمع الایمان۔ الانصاف من نفسک، ویذل السلام للعالم، والانفاق من الاقتار (فتح الباری104/1)یعنی تین چیزیں ہیں جو آدمی ان کو اپنے اندر جمع کرنے اس نے بورے ایمان کو اپنے اندر جمع کرلیا۔ تین چیمیں یہ ہیں۔ اپنے آپ سے انصاف کرنا، دنیا کی سلامتی کے لیے اپنے آپ کو پوری طرح صرف کردینا ، جنگی کے باوجود اتفاق کرنا۔
اس حدیث کا یہ جزء کہ بدل السلام للعالم بے حد اہم ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کی اصل اسپرٹ کیا ہے۔ اور وہ خاص نعرہ کیسا ہے جو اسلام پر انسان کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ کہ ہر انسان خود پیس میں جئیے اور دنیا والوں کے لیے پیس کا حریص ہو، وہ دنیا میں پیس لانے کے لیے ساری کوشش لگادے۔ (To do one's best or utmost)