Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
4مارچ1998
بی بی سی ریڈیو کی ایک رپورٹ میں برطانوی مسلمانوں کا حال بتایاجارہا تھا اس دوران انہوں نے لندن کے ایک مسلمان لیڈر مسٹر اقبال سکرانی کی آواز میں ان کا انٹرویو نشر کیا انہوں نے یہ شکایت کی کہ برطانیہ میں مسلمانوں کے ساتھ مذہبی امتیاز (Religious Discrimination)کیا جاتا ہے۔اس کی ایک مثال انہوں نے یہ دی کہ یہاں کا میڈیا اسلام اور مسلمانوں کی منفی تصویر کشیNegative Projectionکرتا ہے۔ وہ ایسی خبریں دیتا ہے جس سے لوگوں میں یہ تاثر پڑے کہ اسلام تشدد کا مذہب ہے اور مسلمان ایک تشدد پسند قوم ہیں۔
یہ تبصرہ بے بصیرتی کا تبصرہ ہے حقیقت یہ ہے کہ میڈیا کو نہ کسی سے دوستی ہے اور نہ کسی سے دشمنی۔ اس کا مقصد صرف اپنے کاروبار کو بڑھانا ہے اس مقصد کے لیے وہ ہمیشہ سنسنی خیز خبروں کو لیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ لوگ سنسنی خیز خبروں کو دیکھنے اور سننے کا زیادہ شوق رکھتے ہیں چنانچہ وہ جو کچھ مسلمانوں کے بارے میں بتاتے دکھاتے وہ عیسائیوں اور دوسری قوموں کے بارے میں بھی کرتا ہے مگر ہوتا ہے کہ مسلمان جب میڈیا میں دوسری قوموں کے بارے میں اس قسم کی منفی خبریں دیکھتے یا سنتے ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور جب وہ مسلمانوں کے بارے میں اس کوئی خبر دیکھتے یا سنتے ہیں تو وہ غصہ ہوتے ہیں دوسروں کی منفی تصویر کشی ایسی خوشی کی بناپر انہیں محسوس نہیں ہوتی اور مسلمانوں کی منفی تصویر کشی فوراً محسوس ہونے لگتی ہے۔ Dianaکی شکایت کو میڈیا اس کا دشمن ہے۔