Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
28مارچ1998
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے بعد علما ہند کے درمیان جہاد کی جو تحریکیں اٹھیں وہ شاہ ولی اللہ کی تحریک جہاد کا تسلسل تھیں مثلاً1857میں انگریزوں کے خلاف علماء کی جنگ یا اس سے پہلے1831میں سید احمد بریلوی کی تحریک جہاد وغیرہ۔ مگر مجھے اس سے اتفاق نہیں ان بعد کی تحریکوں میں شاہ ولی اللہ کی تحریک کا تسلسل یا تو وسیع نہیں کیا جاسکتا۔
شاہ ولی اللہ کا طریقہ کیسا تھا ن کے سامنے ہندوستان میں پیدا شدہ سکھوں اور مرہٹوں کا مسئلہ تھا اس کے لیے انہوں نے یہ کیا کہ ہندوستان کے بعض نوابوں کو ذریعہ بناکر افغانستان کے حاکم سے مراسلت کی اور کہا کہ تم ہندوستان پر حملہ کرکے سکھوں اور مرہٹوں کا زور توڑ دو تاکہ دہلی کی مسلم سلطنت کی حفاظت ہوسکے۔ اس مقصد کے لیے شاہ ولی اللہ نے خود کوئی جمعیۃ المجاہدین نہیں بنائی۔ مگر بعد کے لوگوں نے اس کے برعکس یہ کہا کہ مسلمانوں کو ترغیب دے کر خود اپنی جماعت بنائی اور اس کو لیکر جنگ شروع کردی۔
یہ فرق بے حد بنیادی ہے۔ فقہ کا مسئلہ اصول ہے کہ: الرخیل للامام۔ یعنی کسی کے خلاف جنگ کا شروع کرنا اس کا کام ہے جو باقاعدہ طور پر حاکم کی حیثیت رکھتا ہیں یہ عام مسلمانوں کا حق نہیں اسلام میں جہاد کے معاملہ کا تعلق حکومت سے ہے نہ کہ عوام سے غالباً شاہ ولی اللہ دہلوی جہاد کی اس نوعیت سے باخبر تھے اس لیے انہوں نے یہ نہیں کیا کہ مسلمانوں کو جوش دلاکر ایک جماعت بنائیں اور سکھوں اور مرہٹوں سے لڑنے کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ لیکن بعد کو جن علماء نے جہاد کی تحریکیں اٹھائیں وہ شاید اس فرق کو نہیں سمجھے اور جو کام حکومت کے کرنے کا تھا اس کو خود کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔
یہ بات میں نے مولانا امیر اللہ خاں قاسمی (محبوب نگر) اور ان کے ساتھ آنے والے مزید چار علماء سے کہی یہ لوگ ہردوئی گئے تھے اور وہاں سے واپسی میں مجھ سے ملے۔ ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ اگر حکومت نہ ہو تو کیا کروں میں نے کہا کہ جن لوگوں کے پاس مال و اقتدار نہ ہو ان کے لیے صبر ہے نہ کہ جنگ۔