Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8اکتوبر1998
ڈاکٹر احمد سلطان صاحب ایک تاجر ہیں۔ وہ قدیم فنی اشیاء (آرٹ پیس) کی تجارت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ایک آرٹ کا نمونہ تھا۔ ایک شخص نے اس کو لینا چاہا۔ اس سے ایک لاکھ روپیہ میں معاملہ ہوا۔ اس نے کہا کہ میں پہلی تاریخ میں ایک لاکھ روپیہ نقد لے آؤں گا اور یہ چیز لے جاؤں گا۔ وہ آدمی اسی تاریخ کو نہیں آیا اور نہ کوئی اطلاع دی یہاں تک کہ چار دن گذرگئے اب ایک اور شخص ملا اس نے اس آرٹ پیس میں دلچسپی ظاہر کی وہ اس کے لیے ڈھائی لاکھ روپیہ دینے پر راضی ہوگیا۔اتنے میں پہلا شخص ایک لاکھ روپیہ لے کر آگیا۔ ڈاکٹر سلطان صاحب نے سمجھا کہ میں پہلے شخص کو قول دے چکا ہوں اس لیے اب مجھےاس کو دینا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے ڈھیڑلاکھ روپیہ کا نقصان سہتے ہوئے وہ چیز پہلے آدمی کو دے دی۔
میں نے کہا یہ جو کچھ آپ نے کیا اس کا اسلام یا ایضاء عہد سے کوئی تعلق نہیں۔ جب وہ آدمی پہلی تاریخ کو نہیں آیا تو اس سے کیا ہوا معاہدہ بھی ختم ہوگیا۔ میں نے کہا کہ آپ نے جو کچھ کیا وہ ایک بےجا مروت تھی، وہ اسلام کا تقاضا ہرگز نہیں۔مروت ایک اچھی چیز ہے مگر اس کی ایک حد ہے، مروت کوئی غیر محدود چیز نہیں۔