Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26مئی1998
میں 23مئی کو بہار گیا اور26مئی کی شام کو وہاں سے واپس آیا۔ اس سلسلہ میں پٹنہ اور کٹیہارجانے کا اتفاق ہوا۔ دونوں جگہ خطاب کا موقع ملا۔ اس موقع پر ایک اور صاحب کو تقریر کے لیے بلایا گیا تھا جس کا نام مسٹر طارق عبداللہ ہے۔ وہ سنسکرت جاننے میں انہوں نے اپنی لمبی تقریر میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کی جو تعلیمات ہے وہی تعلیمات ویدوں میں بھی موجودہیں۔ مگر اپنے اس دعووں کے جن پر اعلان کے کوئی حقیقی علمی دلیل پیش نہیں کی ان کے دلائل زیادہ تر لفظی مشابہت کی نوعیت کے تھے مثلاً ہندو کی کتابوں میں سنو ہے تو قرآن میں تو یہ ہے ہندو کتابوں میں آدم ہے تو قرآن میں ذکر ہے وغیرہ۔
میں نے کہا کہ اس قسم کے لفظی مشابہتوں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی ۔ اصل سے بنیاد کی تعلیمات کا ہے اور ان میں دونوں مذہبوں کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔ مثلاً ہندو ازم میں خدا کے بارے میں وحدت وجود کا تصور ہے۔ اور اسلام میں تو حید کا تصور۔ رسالت کے بارے میں ہندو ازم میں اوتار واد۔ کا تصور ہے اور اسلام میں پیغمبر کا تصور وغیرہ۔