Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
16جولائی1998
آج کے ٹائمس آف انڈیا (نئی دہلی) میں مسٹر سول سوراب جی کا ایک آرٹیکل چھپا ہے۔ سوراب جی مشہور قانون داں ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ ممبئی کے ایک صاحب کو امریکہ میں اوسال کا کام (Assignment)ملا۔ بمبئی میں ان کا ذاتی فلیٹ تھا۔ امریکہ جاتے ہوئے انہوں نے یہ فلیٹ اپنے ایک دوست کو دے دیا اور کہا کہ تم اس میں دو سال تک بغیر کرایہ رہو، جب میں واپس آؤں تو تم میرا فلیٹ خالی کردینا اس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے۔ دوسال کے بعد وہ بمبئی واپس آئے اور مذکورہ دوست سے فلیٹ خالی کرنے کے لیے کہا۔ دوست نے انکار کیا۔ وہ سول سوراب جی سے ملے اور ان سے قانونی مشورہ مانگا۔ سو ل سوراب جی نے کورٹ کا مشورہ دیا۔ انہوں نے پوچھا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ سول سوراب جی نے کہا کہ کم از کم پانچ سال۔ چند ماہ کے بعد ایک تقریب میں سول سوراب جی کی ملاقات اس آدمی سے ہوئی سو سوراب جی نے فلیٹ کے بارے میں پوچھا آدمی نے جواب دیا کہ وہ تو میں نے بہت پہلے خالی کرالیا۔ سو سوراب جی نے پوچھا کہ وہ کیسے اس نے کہا کہ ایک روز جگہ وہ شخص فلیٹ پر موجود نہ تھا، میں چند آدمیوں کو لے کر فلیٹ میں گھس گیا اس کا سارا سامان باہر پھینک دیا بعد میں وہ شخص میرے پاس آیا تو میں نے کہا کہ اب تو میں اپنے فلیٹ پر قبضہ کرچکاہوں تم کو جانا ہے لاکورٹ میں جاؤ۔ یہ قصہ بیان کرنے کے بعد سو سوراب جی نے لکھا ہے کہ یہ رول آف لاٹھی ہے جو رول آف لا سے زیادہ مؤثر ہے۔