Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
26جون1998
ہندوستان ٹائمس کے نمائندہ نے ایک انٹرویو کے درمیان پوچھا کہ آپ دہلی میں1967سے رہ رہے ہیں، آپ کو یہاں کی کون سی چیز سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے۔ میں نے کہا کہ کوئی بھی چیز نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ دہلی کا حال یہ ہوچکا ہے کہ اب یہاں سانس لینے کے لیے خالص ہوا بھی نہیں۔ ایسی دہلی میں رہنا گویا ایک کثیف بنجرہ (Polluted Cage)میں رہنا ہے۔
میں نے کہا کہ ہمارے موجودہ پرائم منسٹر اٹل بہاری واجپئی بار بار فخر کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ مئی1998میں ایٹمی دھماکے کے بعد اب انڈیا امریکہ کی طرح ایک سپر پاور اسٹیٹ بن چکا ہے مگریہ ایک بے اصل بات ہے۔ حال میں میں ساتویں بار امریکہ گیا وہاں امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن میں چند دن ٹھہرا۔ واشنگٹن میں دہلی کے مقابلہ میں کارہی کئی گنازیادہ ہیں مگر دہلی جیسی ہوائی کشافت کا وہاں کوئی وجود نہیں میں نے کہا کہ ایٹم بم بنانے سے کوئی بنک ترقی یافتہ نہیں ہوتا۔ ایٹم بم تو چمبل گھاٹی کے ڈاکو بھی بنا سکتے ہیں، اگر قومی خزانہ ان کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ کسی ملک کی ترقی یافتہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہاں ہر قسم کی شہری سہولتیں اعلی معیار پر پائی جاتی ہوں نہ کہ تباہ کن ایٹمی ہتھیار۔