Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29اکتوبر1998
حکیم عبدالحمید دہلوی کے چھوٹے بھائی حکیم محمد سعید دہلوی تقسیم کے بعد پاکستان چلہے گئے۔ وہاں انہوں نے ہمدردفاؤنڈیشن قائم کیا جس کا ہیڈ کوارٹر کراچی میں تھا۔ اپنی غیر معمولی صلاحیت کے ذریعہ انہوں نے اس کو بہت زیادہ ترقی دی۔ وہ پورے معنوں میں ایک کامیاب انسان تھے مگر 17اکتوبر1998کو کچھ مسلمانوں نے کراچی میں انہیں گولی مارکر ہلاک کردیا۔
بی بی سی لندن پر میں نے ان کے بارے میں ایک پروگرام سنا۔ بی بی سی نے بتایا کہ وفات سے کچھ ہی پہلے وہ لندن آتے تھے۔ یہاں بی بی سی نے ان کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کے کچھ حصے بی بی سی نے سنائے۔ وہ بوڑھے جیسی نحیف آواز میں بول رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں امن وامان چاہتا ہوں۔ میں چاہتا کہ لوگ سکون کے ساتھ رہیں۔ بی بی سی نے بتایا کہ بوقت وفات ان کی عمر78سال تھی یعنی عین وہی عمر جو کہ میری عمر ہے۔ مجھ کو بڑا تعجب ہوا کیونکہ میں جب بولتا ہوں تو لوگ اکثر کہتے ہیں کہ آپ تو جوانوں کی آواز میں بول رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا میرے اوپر خاص فضل ہے جس کا شکر اداکرنا ممکن نہیں۔
دوسرا احساس یہ ہوا کہ ہندوستان اور پاکستان میں کتنا فرق ہے۔ مرحوم کے بڑے بھائی حکیم عبدالحمید صاحب دہلی میں بے خوف و خطر کام کررہے ہیں، اور ان کے بھائی کو پاکستان میں قتل کردیا گیا۔ میں نے سوچا کہ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ میں پاکستان نہیں گیا۔ اگرچہ کئی بار اس کا امکان پیدا ہواتھا۔ اگر میں پاکستان میں ہوتا تو یقیناً پاکستانی مسلمان مجھے قتل کئے بغیر نہ چھوڑتے۔
پاکستان (لاہور) میں میری کتاب ’’شتم رسول کا مسئلہ‘‘ کے خلاف عوامی مظاہرہ ہوچکا ہے۔ جس کی تصویر رپورٹ میں پاکستان کے انگریزی اخبار پاکستان ٹائمس کے شمارہ2اکتوبر1998میں دیکھی۔ اس کے علاوہ بھی میرے خلاف پاکستانی پریس میں بہت کچھ چھپ چکا ہے اور چھپتا رہتا ہے۔