Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5جنوری1998
ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ میں نے مندر بھی دیکھے ہیں جہاں مورتیوں کی پوچا ہوتی ہے اور درگاہیں بھی دیکھی ہیں جہاں قبروں کو پوجاجاتا ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ جو ہندو دھرم میں اوراسلام دھرم میں کوئی فرق نہیں، ہمارے یہاں بٹھاکر پوجتے ہیں اور آپ کے یہاں لیٹاکر پوجتے ہیں۔
میں نے کہا کہ درگاہوں میں جو کچھ آپ نے دیکھا وہ اسلام کا مذہب نہیں، وہ ان مسلمانوں کا مذہب ہے جو ہندو دھرم سے نکل کر اسلام میں آئے ان کی صحیح تعلیم و تربیت نہ ہوسکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے اگر وہ بٹھاکر پوجتے تھے تو اب انہوں نے لیٹاکر پوجنا شروع کردیا۔
پہلے مرحلہ میں اس کا سبب یہ تھا کہ ان نو مسلموں کی تعلیم و تربیت اسلامی انداز میں نہ ہوسکی اب اس شرکانہ رواج کے جاری رہنے کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت انہیں شرکانہ اعمال میں مبتلا ہیں رستے مسلمانوں کے علما اور رہنما ڈرتے ہیں کہ اگر انہوں نے اس رواج کو ختم کرنے کی کوشش کی تو وہ موجودہ مسلمانوں کے درمیان غری مقبول ہوکر رہ جائیں گے۔