Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23جنوری1998
میرے بارے میں میرے مخالفین یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کا آدمی ہوں صرف اس لیے کہ میں ان کے جلسوں میں جاتاہوں مگر اس قسم کا پروپیگنڈہ ایک گناہ ہے کیونکہ ان حضرات کو یہ دیکھنا چاہیے کہ میں وہاں جاکر کیا بات کہتا ہوں حقیقت یہ ہے کہ میں ان ہندوجلسوں میں اسلام کی بات کہنے کے لیے جاتاہوں، اس کا اظہار خود ہندوؤں کی طرف سے بار بار کیا گیا ہے۔
پانچ جنیہ (ہندی) اور آرگنائزر (انگریزی) دونوں آر ایس ایس کے ہفت روزہ پرچے میں ان کے دفتر میں دونوں کا ایک مشترک اجتماع ہوا جس میں مجھے بولنے کے لیے بلایا گیا تھا میری اس تقریر کی رپورٹ خودآرگنائزر میںدوقسطوں میں چھپی اس کا عنوان تھا: ایک مبلغ مولانا: A Missionary Maulana
اسی طرح دہلی فکّی آڈیٹوریم میں آر ایس ایس کے لوگوں کی طرف سے ایک جلسہ ہوا اس میں دو مقرر تھے۔ ایک بی جے پی کے لیڈر اٹل بہاری واجپئی اور دوسرے راقم الحروف۔ میں نے اپنی تقریر میں ’’اسلام ایک رحمت کلچر ہے‘‘ کو اپنا موضوع بنایا، میری تقریر کے بعد اٹل بہاری واجپئی، مائک پر آئے انہوں نے اپنی تقریر کے شروع میں ہی مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مولانا صاحب، یہ وچار منچ ہے، یہ پرچار منچ نہیں ہے‘‘۔
19جنوری1998کو جمعہ میں ہوٹل ایشیا کے وسیع حال میں سمینار تھا۔ یہاں میں نے اسلام اور پیس کے موضوع پر بیس منٹ کی ایک تقریر کی اس وقت دہلی کے ڈاکٹر ڈی آر گوئل صدارت کررہے تھے آخر میں انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ مولانا صاحب تو اسلام کا ڈیفنس کرنے لگے حالانکہ یہ مذہبی اسٹیج نہیں تھا بلکہ ایک سیکولر اسٹیج تھا (یہاں اسلام کے ڈیفنس سے ان کی مراد اسلام کی تبلیغ تھی)