Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30اگست1998
حدیث میں آیا ہے ایک بند آخرت میں خدا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ خدا اس سے کہے گا کہ العرف ذنب کذا؟ کیا تمہیں اپنا فلاں گناہ یاد ہے۔ بندہ اس کا اقرار کرے گا اور کہے گا کہ ہاں اے میرے رب مجھے یاد ہے پھر سوال ہوگا التعرف ذنب کذا کیا تمہیں فلاں گناہ یاد ہے۔ بندہ اس کا اقرار کرے گا۔ اور کہے گا نعم یا رب ہاں میرے رب۔ اب اسے اپنی ہلاکت کا یقین ہونے لگے گا کہ اچانک اللہ فرمائے گا: اذھب فقد غفرتک یحرف واحد جاو، میں نے تم کو تمہاری ایک بار پر معاف کردیا۔ بندہ پوچھے گا اے میرے رب وہ بات کون سی ہے اللہ فرمائے گا تعرف ان لک ربا یغفرلک۔
اس آخری جملہ کا ترجمہ عام طور پر یہ کیا جاتا ہے کہ اس بات پر تمہارا ایمان تھا کہ میں تمہارا رب ہوں جو تمہارے سب گناہ معاف کردوں گا ، مگ تمہارا ایمان تھا کا لفظ اصل بات کو پوری طرح واضح نہیں کرتا۔ اصل یہ ہے کہ اس سے مراد عام معنوں میں صرف ایمان نہیں ہے بلکہ معرفت ہے۔ یعنی اگرچہ تم سے گناہ سرزدہوئے مگر اس کے ساتھ تم نے رب العالمین کو پہنچانا اور اس کے لیے تم روتے اور تڑپتے رہے۔