Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
6ستمبر1998
ایک حدیث قدسی صحہ جین میں مروی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بندہ بار بار گناہ کرکے بار بار توبہ کرتا ہے اور خدا اس کو معاف کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ خدا یہ کہہ دیتا ہے کہ : اعمل ماشہت (تم جوچاہے عمل کرو) اس کی تشریح میں امن حجر العفلانی نے یہ قول نقل کیا ہے: معاناہ مادمت تذنب منتوب غفرت لک (فتح الباری480/13)یعنی جب تک تم گناہ کروگے اور توبہ کرتے رہوگے میں تم کو بخشتا رہوں گا۔
میرا خیال ہے کہ اس طرح کے معاملہ میں اصل اہمیت سچی توبہ کی ہے۔ اگر آدمی بشریٰ کمزوری کی بناپر گناہ کرتا ہے لیکن اگر اس کا ایمانی شعور زندہ ہے تو وہ گناہ کے بعد احساس گناہ سے تڑپ اٹھے گا اور بے تاہاشاطورپر خدا سے معافی مانگے گا۔ حدیث کا مطلب غالباً یہ ہے کہ جب تک آدمی کے اندر اس طرح کی سچی توبہ ابھرتی رہے گی اس کے گناہ بھی معاف کئے جاتے رہیں گے۔