Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
18دسمبر1998
مسٹر ڈی کے جین (نئی دہلی) کا ٹیلی فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال مارچ میں بقرعید اور مہاویرجینتی دونوں ایک ہی دن پڑرہے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس دن مسلمان بھائیوں سے کہا جائے کہ وہ اپنے تیوہار میں جانور ذبح نہ کریں بلکہ جانور کی لاگت کے برابر پیسہ نکال کر غریبوں کو بانٹ دیں۔
میں نے کہا کہ یہ ایک ناممکن بات ہے۔ ہر مذہب میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو سیکروں سال کی روایات کے نتیجہ میں مقدس سمجھ لی جاتی ہیں۔ لوگ ان کو بدلنے پر راضی نہیں ہوتے۔ مثلاً آپ ہندوؤں سے اگر یہ کہیں کہ ہولی میں گھی نہ جلاؤ تو کوئی اس کو ماننے والا نہیں یا ہولی میں لکڑی نہ جلاؤ تو کوئی اس کو نہیں سنے گاخواہ آپ اس کی افادیت پر کتنا ہی زیادہ دلیل دے دیں۔
دوسری بات یہ کہ جین مذہب کا نظریہ اس معاملہ میں خود بھی قابل عمل نہیں۔ جینی عقیدہ کے مطابق جیو کو مارنا مطلقاً حرام ہے۔ یہ نظریہ سرے سے قابل عمل نہیں۔ کیونکہ ہوااور پانی اور دودھ اور سبزی ہر چیز میں جیوہوتا ہے۔ خود جینی بھی جب اس کو استعمال کرتے ہیں تو وہ لاگھرس کی تساد میں جیو کو مارتے ہیں اس طرح جینیوں کو اگر یہ مشورہ دیا جائے کہ تم لوگ اینٹی بایوٹیگ دوااستعمال نہ کرو کیونکہ وہ جیو کو مارنے کے لیے ہوتی ہیں۔ اس طرح فصلوں کو بچانے کے لیے کیڑامار دوائیں ان پر نہ چھڑکو یا مکھی مچھر کو مارنے والی دوائیں استعمال نہ کرو تو کوئی جینی بھی اس کو ماننے والا نہیں۔ تشدد بلا شبہ غلط ہے مگر اس معاملہ میں جینی مذہب میں جو عقیدہ بنالیا گیا ہے وہ غیر فطری ہے اس لیے وہ قابل عمل نہیں۔