Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
31مارچ1998
مسند احمد اور سنن ابن ماجہ میں کتاب الفتن کے تحت ایک روایت آتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دورآخر میں امت میں عمومی بگاڑ آجائیگا۔ صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح کیا جانے لگے گا۔ اس پیشن گوئی کے بعد آپ نے امت کو یہ نصیحت فرمائی: علیکم باسواد الاعظم۔ یعنی اس وقت تم بڑی سیاہی کے ساتھ رہنا۔
عربی میں سوادالناس کا مطلب ہوتا ہے عام لوگ اس حدیث میں سواداعظم سے مراد امت کی اکثریت ہے نام اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس وقت امت کے زیادہ لوگ جس مسلک پر ہوں وہی مسلک حق ہوگا۔ رسول اللہ کی یہ ہدایت رفع شر کے معنی میں ہے کہ جہ کہ اتباع حق کے معنی میں۔ حق کا تعلق قرآن و سنت سے ہے نہ کسی گروہ کی عددی اکثریت سے۔ قوم کے اندر عمومی بگاڑ آجائے تو اس وقت عملی مصلحت کا تقاذا ہوتا ہے کہ ایسا کوئی رویہ نہ اختیار کیا جائے جس سے ساد میں اضافہ کا اندیشہ ہوں۔ ایسی حالت میں اھون البلیتین کے اصول پر ایک شخص کے لیے زیادہ درست بات یہ ہوتی ہے کہ وہ ظاہری یا عملی طور پر اکثریت کے ساتھ رہے۔