Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
13جنوری1998
ڈاکٹر مہیش شرمانے بتایا کہ بھاجپا کے لیڈر مسٹر کے آر ملکانی1947میں سندھ سے دہلی آئے۔یہاں انہوں نے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس میں سروس حاصل کرنا چاہا انکے بڑے بھائی نے کہا کہ اب آزادی کے بعد میں بھارت میں انگریزی اور انگریزی اخبار کو کون پوچھے گا یہاں نواب ہندی زبان کا دور دورا ہوگا اس لیے تم انگریزی اخبار کا خیال چھوڑدو۔ ہندی اخبار دینک جاگرن میں سروس کرلو۔
مگر آزادی کے پچاس سال بعد آج یہاں پہلے سے بھی زیادہ انگریزی کا دبدبہ ہے اس کے مقابلہ میں ہندی زبان ہر اعتبار سے بہت پیچھے ہے یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لیڈروں کی باتیں کسی ملک میں قومی زندگی کی تشکیل نہیں کرتیں، یہ دراصل سماجی اور تاریخی اور بین الاقوامی حالات ہیں جو قومی زندگی کا نقشہ بناتے ہیں عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہندو اور مسلمان دونوں گروہوں کے لیڈروں نے اپنے گروہ کے لوگوں کو خوشنما الفاظ کے سحر میں مبتلا رکھا حالانکہ حقیقی دنیا میں یہ خوشنما الفاظ کبھی واقعہ بننے والے نہیں تھے۔