Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
28جون1998
پٹنہ کے نواب حیدر پنجارا ملاقات کے لیے آئے۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر خطہ میں اور ہر بستی میں پیغمبر آئے۔ اور یہ کہ تمام پیغمبروں پر ایمان لانا ضروری ہے۔ پھر ہم کیوں نہ رام اور کرشن اور بودھ پیغمبر مانیں۔ میں نے کہا کہ کس کو پیغمبر ماننے کے لیے مستند بنیاد ہونا ضروری ہے۔ علمی اعتبار سے اس کی صرف تین بنیادیں ہیں۔ قرآن تاریخ دوسری مذہبی کتابیں۔ ان میں سے کوئی بھی بنیاد دوسرے پیغمبروں کی تصدیق نہیں کرتی۔
قرآن میں کچھ نبیوں کے نام آئے ہیں۔ بقیہ نبیوں کے بارے میں صرف یہ ہے کہ ہر بستی میں ہم نے پیغمبر بھیجے۔ قرآن کی بنیاد پر ہم صرف ان ہی نبیوں کو نبی کہہ سکتے ہیں جن کا نام قرآن میں آیا ہے۔ کیوں کہ شرعی اعتبار سے یہ معاملہ کیا گیا اجہادی نہیں ہے۔
اس کے بعد تاریخ کو کہا۔ تاریخ کا حال یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے سوا کسی بھی دوسرے پیغمبر کی تصدیق تاریخ سے نہیں ملتی۔ جہاں تک دوسرے مذہبوں کا معاملہ ہے تو آپ جانتے ہیں کہ ہر مذہب میں پیغمبر کا کوئی تصور نہیں۔ ہندو کرشن کو اوتار مانتے ہیں نہ کہ پیغمبر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندومذہب کی بنیاد پر بھی آپ ان شخصیتوں کو پیغمبر نہیں کہہ سکتے۔ جہاں تک تو تم اس کا معاملہ ہے تو تم بددوہو رہی کہ نہیں مانتے پھر جو شخص خدا کے وجود ہی کا منکر ہو اس کو آپ خدا کا پیغمبر کس طرح کہہ سکتے ہو۔ میں نے کہا کہ موجودہ لوگوں کا موقف زیادہ درست ہے۔ جیسا کہ اپنے والوں گوتم بدھ کو خدا کا اوتار کہا مگر بودھ لوگوں نے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم خدا کےوجود کو ہی نہیں مانتے تو ہم گوتم بدھ کو خدا کا اوتار کس طرح کہہ سکتے ہیں۔