Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20اپریل1998
مولانا حبیب اللہ قاسمی (جودھپور) سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے! میں نے ان کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے: اسلام میں ساری اہمیت صرف ایک چیز کی ہے وہ اخلاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں کام کا ڈھیر نہیں دیکھا جائیگا علم کا جنگل یا عمل کا پہاڑ اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں رکھتا اللہ کے نزدیک قابل قدر چیز وہ ہے جو کسی آدمی کے دل میں ہوتی ہے یعنی آدمی اللہ کو درجہ معرفت میں پائے اس کی تمام سرگرمیوں میں اللہ کی خشیت سرایت کرگئی ہو۔ اس زبان سے اللہ کے نغمے جاری ہوتے ہو۔ یہاں تک اس کا یہ حال ہوجائے کہ وہ مخلوقات میں خالق کو دیکھنے لگے وہ دنیا کے ہنگاموں میں آخرت کا مشاہدہ کرنے لگے اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ بن جائے کہ جب وہ موجودہ دنیا سے نکل کر آخرت میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے اور اس کو اپنی جنت میں داخل کرے یہ وہ انسان ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت میں جینے لگتا ہے۔ بظاہر نہ دیکھتے ہوئے بھی وہ خدا کو دیکھ لیتا ہے وہ اللہ کی رحمتوں کے سمندر میں نہاتا ہے ہواؤں کے جھونکے میں وہ لمس ربانی کا تجربہ کرتا ہے وہ دنیا میں اس طرح جیتا ہے جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔ حدیث کے مطابق، اس دنیا میں اللہ سے اس کی سرگوشیاں ہوتی ہیں قرآن کے مطابق، فرشتے اس کے اوپر پیغام رحمت لیکر اترتے ہیں۔ یہی وہ نبرہ مومن ہے جو خدا کا مطلوب انسان ہے اور یہی وہ بندۂ موہن ہے جس کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیںگے۔