Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
6اپریل1998
ایک روایت مختلف الفاظ کے ساتھ حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں ان امتی لا تجتمع علی ضلالۃ یعنی میری امت کس صلالت پر مجتمع نہیں ہوگی۔ یہ حدیث کتاب الفنن کے تحت آتی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا تعلق معتدل حالات سے نہیں ہے بلکہ ان وصیت سے ہے جب کہ لوگوں کے اندر عمومی طور پر بگاڑآجائے۔
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت کی اکثریت جنسی مسلک پر جو وہ محض اکثریت کی بناپر ارست ہوگا معتقد1997سے پہلے برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت پاکستانی تحریک کے ساتھ ہوگی علماء اس کے خلاف تھے مگر عدوی تناسب کے اعتبار سے وہ بہت چھوٹی اقلیت بن گئے اس کے باوجود یہ نہیں کہا جائیگا کہ حق مسٹر محمد علی جناح کی طرف تھا جس کے ساتھ مسلمانوں کی بہت بڑی اکثریت تھی اور علماء اس وقت حاشیہ پر چلے گئے۔
اس حدیث کا مطلب تعلق عدوی تناسب سے نہیں ہے اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ میں کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ سارے ہی لوگ ضلالت پر اکٹھا ہوجائیں اور کوئی بھی صاحب حق باقی نہ رہے۔ یہ کوئی پراسرار بات نہیں، بلکہ وہ ایک قطری حقیقیت ہے۔ اسلام کی یہ امتیازی صفت ہے کہ اس کا متن (قرآن سنت) اپنی ابتدائی حالت پر محفوظ ہے اور وہ ہمیشہ محفوظ رہے گا اس لیے ہمیشہ ایسا ہوگا کہ کچھ نہ کچھ اہل علم حقیقی اسلام پر قائم رہیں گے، جن کہ عمومی بگاڑ کے وقت تھی۔