Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
24جولائی1998
ایک شخص کبھی کبھی ہمارے یہاں آتا تھا۔ وہ کچھ شریرمزاج کا تھا۔ اور ہمارے بچوں کو پریشان کرتا تھا۔ میں نے ہمیشہ اپنے بچوں سے کہا کہ وم لوگ صبر واعراض کا انداز اختیار کرو، وہ اپنے آپ ٹھیک ہوجائے گا۔ مگر وہ آدمی برابر آتارہا اور بچوں کو پریشان بھی کرتارہا۔ اس کے بعد میری لڑکی ڈاکٹر فریدہ خانم نے سوچا کہ والد ثاحب کی نرم پالیسی سے یہ آدمی ٹھیک ہونے والا نہیں ہے۔ چنانچہ ایک روز میری لڑکی نے اس آدمی کو نہایت سختی کے ساتھ ڈانٹا۔ سختی کے جتنے الفاظ اس کے پاس تھے سب استعمال کر ڈالے۔ وہ آدمی میری لڑکی کی ڈانٹ سن کو گھبراگیا اور چپ چاپ واپس چلا گیا۔ اس کے بعد وہ دوبارہ پھر کبھی ہمارے یہاں نہیں آیا۔
اس تجربہ کے بعد میں نے کہا کہ صبر و اعراض کی پالیسی عام حالات میں بلاشبہ مفید ہے۔ مگر کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو صبرواعراض سے متاثر نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کا علاج صرف وہی ہے جس کو ڈاکٹر فریدہ خانم نے استعمال کیا۔