Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
تن پروری خلق فزوں شدزریاضت جزگرمئی افطار ندارد فمضان ہیچ
یہ دراصل دورزوال کے مظاہر ہیں۔ کوئی امت جب اپنے زوال کے دور میں پہنچتی ہے تو اس کے یہاں ظاہری چیزوں کی دھوم بڑھ جاتی ہے۔ اور باطنی حقیقتوں کا اہتمام ختم ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ رمضان میں سحری اور افطار کی دھوم ہے مگر روزہ کی اسپرٹ کی دھوم نہیں۔ مسجد میں شاندار گنبدبن رہے ہیں مگر روح صلاۃ غائب ہے مدرسہ میں بلڈنگوں کا دور ہے مگر معیار تعلیم کا زور نہیں۔ صبح میں سیاحتی پہلو کا خوب اہتمام ہے مگر اس کے تقویٰ والے پہلو کا کوئی وجود نہیں۔
یہی معاملہ دین کے ہر معاملہ میں ہے۔ اس کے دنیوی یا ظاہری پہلوؤں کی حوب دھوم ہے مگر اس کی جو اصل اسپرٹ ہے اس کا لوگوں کو نہ شعور ہے اور نہ اس کا کوئی اہتمام۔