Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23نومبر1998
مدنی دور میں ایک بار سورج گرہن پڑا۔ اس دن اتفاق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادہ ابرہیم کی وفات ہوئی جو اس وقت تقریباً ڈیڑھ سال کے تھے۔ عام رواج کے مطابق لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ پیغمبر کے صاحبزادہ کی وفات کی بناپر یہ سورج گرہن واقع ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے اس قول کا علم ہوا تو آپ تیزی سے مدینہ کی مسجد میں گئے اور وہاں لوگوں کو جمع کرکے ان سے کہا کہ یہ سورج گرہن یا چاند گرہن کسی کی موت پر نہیں ہوتے بلکہ وہ خدا کی نشانی کے طور پر ہوتے ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ ایک فطری واقعہ ہے جو فلکیاتی قانون کے تحت پیش آیا ہے۔
اس سلسلہ میں جو روایات آئیں ہیں ان میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ اٹھ کر تیزی سے مسجد کی طرف روانہ ہوئے اور اس حال میں مسجد میں داخل ہوئے کہ آپ کی چادر زمین پر گھسٹا رہی تھی(فقام النبی صلی اللہ علیہ وسلم بجز رداء حتمی دخل المسجد) فتح الباری611/2
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ بات بے حد سنگین تھی کہ لوگ ایک واقعہ کے بارے میں تبارات اور توہمات کی بنیاد پر ایک ایسی رائے قائم کریں جس کا حقیقت واقعہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس غلط فکر کی تردید آپ کے نزدیک اتنی زیادہ ضروری تھی کہ آپ جب اس کو سن کر اٹھے تو اپنی چادر کو سنبھالنا آپ کو یاد نہ رہا۔ آپ اس حال میں تیزی سے مسجد کی طرف روانہ ہوئے کہ آپ کی چادر زمین پر گھسٹ رہی تھی۔