Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30مارچ1998
پاکستان (اسلام آباد) سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام کشمیر المحتلہ ہے۔ یعنی مقبوضہ کشمیر۔ اس کے شمارہ جنوری1998میں سعودی عرب کے مشہورعالم شیخ عبداللہ ابن باز کا ایک فتویٰ چھپا ہے۔ اس فتویٰ میں انہوں نے ہندوستانی کشمیر میں جاری لڑائی کو اسلامی جہاد قراردیا ہے۔ ان کہ الفاظ میں ہیں دوزاجہاد شرعی اسلامی صحیح۔ یعنی یہ جہاد ہے، شرعی ہے، اسلامی ہے ، صحیح ہے۔
شیخ باز نے یہ فتویٰ یقینی طور پر بلا تحقیق دیا ہے۔ کچھ کشمیریوں نے ان سے مل کر یکطرفہ طور پر بتایا کہ ہندوستان کشمیر میں ظلم کررہا ہے۔ اس لیے انہوں نے فتویٰ دے دیا کہ ظلم کے خلاف تم لوگ لڑ رہے ہو اس لیے ہماری لڑائی جہاد ہے۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ البادی ظلم کا کیس ہے۔ 1989تک کشمیر میں مکمل طور پر امن تھا۔ اس کے بعد کشمیریوں نے ہندوستانی فوج کے خلاف گن اور بم کے ذریعہ متشددانہ تحریک چلائی۔ اس کے جواب میں ہندوستانی فوج نے بھی انہیں تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔
دوسری بات یہ کہ جہاد ایک حکومتی عمل ہے نہ کہ انفرادی عمل۔ جس طرح چو کا ہاتھ کاٹنے کا اختیار صرف باقاعدہ حکومت کو ہے نہ کہ عوام کو اس طرح کسی کے خلاف جہاد وقتال کرنا بھی صرف باقاعدہ حکومت کا کام ہے۔ عوام کو سرے سے جائز ہی نہیں کہ وہ ظلم کا نام لے کر کسی حکومت کے خلاف جہاد وقتال شروع کردیں۔