Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یکم اپریل1998
ان نتیجہ حق بات کہنے کے لیے انتہائی بے باک تھے چنانچہ ان کی بعض حق گوئی کی بناپر وقت کی حکومت ان کی مخالف ہوگئی ان کے لیے یہ مسئلہ پیدا ہوگیا کہ وہ یا تو جیل میں بند کردیے جائیں گے یا ان کو جلاوطن کردیا جائیگا وہ اس سے واقف نہیں ہوتے بلکہ انہوں نے کہا کہ: ان حبسی جلوۃ واخراجی من یلدی سیاحۃ۔ یعنی قید میرے لیے تنہائی ہے اور جلاوطنی میرے لیے سیاحت ہے۔ یہ ایک مومن کی صحیح تصویر ہے۔ مومن کسی بھی معاملہ کو شکایت کا سبب نہیں بناتا۔ اس کے اندر تذکر اور توسم کا مزاج ہرصورت حال میں اپنے لیے موافق پہلو تلاش کرلیتا ہے۔ وہ اپنے مائنس (نہیں) کو بھی پلس (ہاں) میں تبدیل کرلیتا ہے۔ مومن کی اس مخصوص مزاج کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قید اس کے لیے تنہائی میں غوروفکر کا موقع دینے والی بن جاتی ہے اور جلاوطنی اس کے لیے ایک ایسی سیاحت بن جاتی ہے جو اس کے مطالعہ اور مشاہدہ کے میدان کو وسیع تربنادے اس بات کو ابن تیمیہ نے اپنے انداز میں اس طرح بیان کیا: جنتی فی صدری۔ ان وحت نعی معی تفارقنی۔ یعنی میری جنت میرے سینے میں ہے جب میں چلتا ہوں تو وہ میرے ساتھ ہوتی ہے وہ کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوتی۔