Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30جولائی1998
مولانا ظہار احمد صدیقی ندوی صاحب نے ایک بات یہ کہی کہ آپ دوسرے اکابر سے کٹ کر اپنا مشن چلا رہے ہیں، آپ کے لیے زیادہ بہتر یہ تھا کہ آپ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرتے۔ میں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ مل کر کام کرنا چاہا اور آج بھی مل کر ہی کام کرنا چاہتا ہوں مگر اس سلسلہ میں میرے تجربات بے حد تلخ ہیں۔
اس سلسلہ میں ایک مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مولانا علی میاں صاحب کے ایک قریبی ساتھی مولانا اسحٰق ندوی سے عین اس موضوع پر میری گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ کو مولانا علی میاں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں اس کے لیے تیار ہوں مگر اس سلسلہ میں میری ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ فطری طور پر ایسا ہوگا کہ مجھ کو مولانا علی میاں سے اختلاف رائے میں آئے گا۔ ایسے موقع پر میں منافق نہیں بن سکتا۔ میں ضرور اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ مولانا علی میاں اکثر میرے اخبار اختلاف کو برداشت کرسکیں تو میں ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کے جواب میں مولانا اسحٰق حبسی ندوی نے کہا کہ جب آپ کو حضرت مولانا سے اختلاف ہو تو آپ اس کا اظہار کرنے کے بجائے اپنے آپ کو مہتم کرلیا کریں۔
میں نے کہا کہ یہ تو ایسی چیز ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ عام انسان تو درکنار خود اللہ تعالیٰ نے یہ مطالعہ نہیں کیا کہ اس کی مخلوق پیشگی طور پر اپنے آپ کو مہتم کرلیا کرلے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو فرشتوں کو ایک اشکال پیش آیا تو انہوں نے کہا کہ: اتجعل فیھا من یفسدفیہا ویسفک الدماء (البقرہ30)فرشتوں نے ایسا نہیں کیا اپنے آپ کو متہم کرکے چپ ہوجائیں۔