Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
9مارچ1998
امام مالک نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ جبری طلاق واقع نہیں ہوتی (طلاق والمکرہ لیس شیئی) اس مسئلہ پر وقت کی حکومت نے ان کو کوڑے مروائے اور سخت سزائیں دیں۔ لیکن آج کوئی عالم اگر ولی یا اسلام کوباد یا کسی اور شہر میں یہ فتویٰ دے تو اس کو وقت کا حاکم کوڑانہیں مارے گا۔ اس فرق کا سبب زمانہ کا فرق ہے قدیم زمانہ میں طلاق المکرہ لیس شیئی کے کی بروقت کے سیاسی حکمراں پر پڑنی تھی مگر آج یہ مسئلہ صرف ان پر مسئلہ کے ایک جزئی مسئلہ ہیں، اس کا وقت کے سیاسی اقتدار سے کوئی تعلق نہیں۔
زمانی فرق کے اس معاملہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے سید قطب اور مسجد ابوعلی مودودی نے عظیم غلطیاں کیں انہوں نے دیکھا کہ قدیم زمانہ میں لاالہ الاللہ کہنے والے کو کوڑا ماراجاتا تھا۔ مگر آج جب کوئی شخص (مثلاًموذن) لاالہ الاللہ کہتا ہے تو کوئی بھی اس کو کوڑا مارنے کے لیے نہیں لڑتا اس فرق کو دیکھو کہ انہوں نے یہ قیاس کیا کہ اصل تو یہی ہے کہ جو شخص لاالہ الاللہ کہے اس کو کوڑے مارے جائے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے لاالہ الاللہ سے آپ کے انقلابی مفہوم کو نکال کر اس کو بے جان کہہ دیا ہے اس لیے وقت کے سیاسی حکمراں اس کو بے خطر سمجھ کر اسے نظر انداز کررہے ہیں۔
سید قطب اور سید ابوالاعلی مودودی نے اس مفروضہ کے تحت لاالہ الاللہ کی نئی سیاسی تشریح کی اور اس کو حکمرانوں کے خلاف سیاسی خطرہ کے ہم معنی بنادیا اسی سیاسی تشریح کے تحت انہوں نے پرجوش مسلمانوں کی ایک جماعت اکٹھاکی اور ان کو ہی حکمرانوں کی سیاسی بے دخلی کے لیے کھڑے ہوگئے اس کے بعد حکمرانوں نے بھی اس کے خلاف جوابی کارروائی کی جو اب انہوں نے کیا کہ دیکھو یہ ہے لاالہ الاللہ کا صحیح مفہوم جب ہم نے لاالہ الاللہ کو اس کے اصل مفہوم میں لیا تو حکمراں بھی ہمارے خلاف ہوگئے۔
یہ یعنی طور پر ایک غیر عملی بات ہے وہ حکمرانوں کا خریف جو باذات خود کوئی اس بار نہیں حکمراں پر اس شخص یا اس جماعت کے خلاف جوجانے ہی جس کو اپنے لیے سیاسی خطر سمجھتے ہوں۔ خوا وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی قدیم زمانہ میں دائیوں کے ساتھ جو تشدد پیش آیا اس کا تو زمانی حالات سے تھا نہ کہ خود کلمہ توحید ہے۔