Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
12اپریل1998
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ ہجرت کے بعد12یا17مہینہ تک آپ بیت المقدس کو قبلہ بناکر اس کی سمت میں نماز اداکرتے رہے۔ اس کے بعد نیا حکم آیا اور آپ نے کعبہ کو دوبارہ اپنا قبلہ بنالیا (البقرہ142)
تحویل قبلہ کا یہ واقعہ ہوا تو اس کے بعد مشرکین مکہ اور یہود دونوں نے اس پر الگ الگ تبصرے کئے مشرکین مکہ نے کہا کہ محمد ہمارے قبلہ کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ اس طرح وہ ہمارے دین کی طرف بھی لوٹ آئیں گے (رجع محمد الی قبلتنا وسیع انی ربنا) اس کے برعکس یہود نے کہا کہ محمد کو دیکھو، انہوں نے نبیوں کے خلاف اپنا قبلہ بنایا ہے۔ اگر وہ پیغمبر ہوتے تو وہ ایسا نہ کرے (خالف قبلۃ الانبیاء ولوکان نبیا کما خالف) فتح الباری21/8
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر اگر صحیح سوچ نہ ہو تو وہ ایک ہی بات کو دو مختلف انداز سے دیکھ سکتا ہے، وہ ایک مثبت واقعہ میں بھی منفی پہلو نکال سکتا ہے۔