Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
8مارچ1998
امام مالک کا فتویٰ تھا کہ جہدی طلاق کی کوئی حقیقت نہیں (طلاق الکرہ لیس شیئ) اس پر خلیفہ مامون عباس نے کوڑے سروالے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سادہ سے مسئلہ پر امام مالک کو کوڑا مارنے کی کیا ضرورت تھی اس کا سبب یہ تھا کہ یہ فتویٰ اپنے توسیعی مفہوم کے لحاظ ایک سیاسی معنی رکھتا تھا اس زمانہ میں مسلم خلفاء اور سلاطین لوگوں سے ملاقات کی جبری بیعت لیا کرتے تھے اس پس منظر میں اس فتویٰ کا مفہوم یہ بنتا تھا کہ جس طرح مکرہ کی طلاق نہیں ہے، اس طرح مکرہ کی بیعت بھی بیعت نہیں۔
اس کے مقابلہ میں حنفی فقہاء کا فتویٰ یہ ہے کہ مکرہ کی طلاق واضح ہوجاتی ہے یعنی کسی شوہر سے جبری طور پر طلاق نامہ لکھوایا جائے تو وہ واقعہ ہوجائیگا۔ اور دونوں کے درمیان تفریق لازم ہوگی میرا احساس یہ ہے کہ حنفی فقہاء کا یہ فتویٰ غالباً سیاسی اسباب کی نام پر تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خانوہ ابولاسف کے عہدہ قضا قبول کرنے کے بعد حنفی علماء بہت زیادہ امراراور حکام ہے قریب ہوگئے خلیفہ کے دربار میں ان کو غیر معمولی پذیرائی ملی حنفی علما کا مذکورہ فتویٰ غالباً اسی سیاسی تعلق کے زیراثر تھا۔