Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
23مارچ1998
روایات میں آیا ہے کہ بدر کے مشرک مقتولین کو خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: فانا قد وجدنا ما وعد نا ربنا حقا: منھل ودجتم ساء عد ویکم حقا (فتح الباری351/2)یہ عین وہی بات تھی جو قرآن میں ان الفاظ میں آئی ہے: اُن قدوجدنا ماوعدنا ربنا حقا فنھل وجدتم ماوعدریکم حقا (الاعراف44)
روایات میں مزید آیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے تو ایک صحابی نے کہا کہ اے خدا کے رسول کیا آپ مردوں سے خطاب کررہے ہیں کیا وہ آپ کی بات کو سنتے ہیں وھل سیمعون آپ نے فرمایا ہاں وہ سنتے ہیں جس طرح تم سنتے ہو (قالوا یارسول اللہ وھل بسمعون؟ قال یسمعون کما نسمعون (فتح الباری354/4)
رسول اللہ کا قول بظاہر قرآن سے ٹکراتا ہے جس میں ارشاد ہوا کہ :انک لا تسمع المو الا(النمل80)چنانچہ حضرت عائشہ نے اس کی تاویل اس طرح کی ہے کہ یہاں یسمعون کا لفظ یعلمون کے معنی میں ہے یعنی جو بات میں کہہ رہا ہوں اس کو وہ بخوبی طور پر جان رہے ہیں (فتح الباری351/7)
میرے نزدیک حضرت عائشہ کی یہ تاویل بالکل درست ہے۔ یہ ایک ادبی اسلوب ہے کہ بعض اوقات تاکید و تشدد کے لیے ایسا کیا جاتا ہے کہ سائل نے جن الفاظ میں سوال کیا ہے انہیں الفاظ میں اس کا جواب دیا جائے۔ سائل نے کہا تھا کہ ھل یسمعون۔ آپ نے کلام کو موکد کرنے کے لیے فرمایا کہ نعم یسمعون ایسے موقع پر خود ماحول یہ بتانے کے لیے کافی ہوتا ہے کہ یہ اسلوب تاکید کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور یسمعون حقیقۃ یعلمون کے معنی ہے مگر بعد کے لوگ جو اس ماحول سے الگ رہ کر اس کو پڑھتے ہیں وہ غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور اس کو بالکل لفظی معنی میں لینے لگتے ہیں۔