Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
30اکتوبر1998
دہلی کے انگریزی اخبار ہندوستان ٹائمس نے ایک باراپنے اخبار کے ایڈیٹوریل میں لکھا تھا کہ کچھ لوگوں کے ذہن چھوٹی چھوٹی چیزوں میں اٹکے رہتے ہیں۔ وقت کے بڑے بڑے مسائل کی طرف متوجہ نہیں ہیں:
Men's minds are lost in trimalities. And not attend to the challending issues of the time
اکتوبر1998کے تیسرے ہفتہ میں اسلام آباد میں انڈیا اور پاکستان کے خارجہ سکریٹیوں کی تین روزہ میٹنگ ہوئی۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے ان نزاعات کو حل کرنا تھا جس نے دونوں کو50سال سے تباہ کررکھا ہے۔ بی بی سی لندن نے اپنے نشریہ میں بتایا کہ ہندوستان کے خارجہ سکریٹری کے ساتھ یہاں کے کئی انگریزی اخباروں کے نمائندے بھی اسلام آباد گئے تھے۔ ان اخباری لوگوں کی سب سے بڑی دلچسپی یہ تھی کہ وہ اسلام آباد کے فیشن بازار میں شاپنگ کریں۔ یہ لوگ خاص طور پر وہاں نصرت فتح علی کے ویڈیو کیسٹ تلاش کرتے پھرتے تھے۔
اس نشریہ کو سن کر میں نے سوچا کہ ہمارے دانشور تقریباً سب کے سب ڈبل اسٹینڈرڈ ہیں۔ ان کی مدکورہ قسم کی باتیں صرف پروفیشنل ٹاک ہیں۔ اپنی پروفیشنل میز پر وہ اصول کی باتیں لکھتے او ربولتے ہیں مگر اسی کے بعد جب وہ اپنی عام زندگی میں آتے ہیں تو وہ بھی ویسے ہی سطحی ہوتے ہیں جیسے کہ دوسرے تمام لوگ۔ ایسے سطحی دانشوروں کا اجتماع کبھی کسی اعلیٰ نتیجہ تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔