Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20اکتوبر1998
پاکستان نئی نئی بدعتوں کا کارخانہ ہے۔ وہاں ایسی ایس بدعتیں ایجاد ہورہی ہیں جن کو میرے جیسا آدمی پیشگی طورپر قیاس نہیں کرسکتا۔ 15اکتوبر کو میں پاکستان ریڈیو سن رہا تھا۔ یہ ایک اسلامی پروگرام تھا جس میں کی پاکستانیوں نے شرکت کی اور اس کا آغاز ایک فارسی کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ قاری صاحب نے سورۃ الجمعہ پڑھی۔ ہر بار جب قاری صاحب ایک آیت کو پڑھ کر رکتے تو اور حسب قاعدہ مختصر وقفہ کرتے تو اس وقفہ کے دوران حاضرین سبحان اللہ اور ماشاء اللہ کی آوازیں بلند کرتے۔
قرأت کے دوران اس طرح بلند آواز سے سبحان اللہ اور ماشاء اللہ کہتا خود قرآن کی ہدایت کے خلاف ہے۔ قرآن میں حکےم دیا گیا ہے کہ جب قرآن کا کوئی حصہ پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور چپ رہو امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا (الانعام204)اگر آدمی کے دل میں خدا کا خوف ہو تو وہ تلاوت قرآن کے درمیان بولنے سے سخت پرہیز کرے گا۔ کیونکہ مذکورہ آیت کے مطابق، اس کو اندیشہ ہوگا کہ اگر میں تلاوت قرآن کے درمیان بولوں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میں خدا کی رحمت سے محروم ہوجاؤں۔