Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
18مارچ1998
مسلم حکمرانوں سے خروج (بغاوت) کے لیے جو روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں ان میں ایک روایت وہ ہے جس کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ہرگز حکمرانوں کے خلاف خرچ نہ کرنا اور یہ کہ تم ان کے اندر کھلاہوا انکار دیکھو (الاان نرواکنسرابواحا) (فتح الباری2/ 13)
الخطابی نے اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس سے مراد حکمرانوں کا ایسا قول ہے جو کہ آزاد طور پر کفر ہو(معنی قولہ یواحابرید کہا ھرابادبا من قولھم۔ فتح الباری10/13)
موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں جو نفاذ اسلام کے نام پر مختلف مسلم جماعتیں وقت کے مسلم حکمرانوں کے خلاف سطح یا غیر سطح ٹکراؤ کررہی ہیں اس کے نتیجہ میں ان تحریکیں سراسر غیر اسلامی ہیں کیونکہ ان ملکوں کے حکمرانوں نے کبھی بھی اپنے قول سے اس جرم کا ارتکاب نہیں کیا جس کو حدیث میں کزیواح کیا گیا ہے یہاں کزیواح سے مراد ایسی کھلی ہوئی منکرسخت ہے جس کی کوئی تاویل ممکن میں نہ ہو متفقہ کسی حمکراں کا عقیدہ توحید کا انکار کرنا یا یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی نہیں تھے، آپ کے بعد میں انبیاء آتے رہیں گے یا یہ کہ قرآن خدائی کلام نہیں ہے بلکہ وہ ایک انسانی کلام ہے۔ مگر جب کہ معلوم ہے ان مسلم حکمرانوں نے کبھی بھی اس طرح کے کفر یواح کا ارتکاب نہیں کیا۔ یہ حکمراں اپنے ملکوں میں نام نہاد اسلام پسندی پر آج کل جو ظلم کررہے ہیں اس کی دمہ داری اصلاً خود ان اسلام پسندوں پر آتی ہے کیونکہ انہیں نے سب سے پہلے حکمرانوں کے خلاف تشدد کا آغاز کیا اور شریعت کے مطابق جو آغاز کرے وہی زیادہ ظالم ہے (الباری اظلہ)