Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5فروری1998
ایک مسلمان واعظ تقریر کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نمازوں میں جان نہیں۔ اس لیے ہماری نمازوں کے وہ عالمی اثرات ظاہر نہیں ہو رہے ہیں جو اسلاف کے زمانہ میں ظاہر ہوئے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک بزرگ کے پاؤں میں تیر لگ گیا۔ وہ اندر تک جاکر پھنس گیا۔ لوگوں نے کہا کہ ان کو نماز کے لیے کھڑا ہونے دو، اس کے بعد ان کا تین نکال لیا جائے گا۔ لہذا جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو ان کے پاؤں سے تیر کھینچ کر نکال لیا گیا مگر وہ نماز میں اتنا زیادہ محو تھے کہ انہیں خبر نہ ہوسکی۔
یہ نماز کا غلط معیار ہے۔ نماز میں اس قسم کا کنسنٹریشن فطری طور پر ممکن ہی نہیں۔ اس قسم کے قصے بلاشبہ بے اصل ہیں۔ کوئی بھی شخص پیغمبر سے زیادہ اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ پیغمبر اسلام کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ آپ نماز کی امامت فرماتے تھے اور جماعت کی پچھلی صف سے اگر کسی بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپ نماز کو مختصر کرکے سلام پھیر دیتے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں مذکورہ قسم کا کنسٹریشن ہوتا تو کبھی ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ آپ پچھلی صف میں رونے والے بچے کی آواز سنیں اور اس کے بعد اپنی نماز کو مختصر کردیں۔