Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
17مارچ1998
بگڑے ہوئے حکمرانوں کے بارے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ان سے سیاسی ٹکراؤ نہ کیا جائے بلکہ اس معاملہ میں حکمرانوں سے لڑنے کے بجائے اللہ سے رجوع کیا جائے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وسلو اللہ حقکم اس کی تشریح کرتے ہوئے ابن حجر العنلانی نے لکھا ہے کہ ان بان یلھہم انصانکر أوبین لکم خیر آمنھم (فتح الباری8/ 13)یعنی اللہ سے یہ دعا کرو کہ وہ ان کے دل میں تمہارا انصاف ٹالدے یا وہ تم کو ان سے بہتر بدل عطاء فرمائے۔
اس سے اجتماعی معاملات میں اسلام کی اسپرٹ معلوم ہوتی ہے اجتماعی یا سیاسی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے شخص سے یا وقت کے حکمراں سے شکایت ہوجاتی ہے ایسی حالت میں یہ درست نہیں ہے کہ آدمی فوراً فریق فانی سے ٹکراؤ شروع کردے صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ وہ فریق ثانی سے صرف نظر کرکے خدا کی طرف متوجہ ہوجائے۔ جو کچھ اس کو انسانوں سے نہیں مل رہا ہے اس کو وہ خدا سے مانگنے لگے۔