Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
یکم اگست1998
ماہنامہ زندگی (دہلی) کے شمارہ اگست1998میں جماعت اسلامی ہند کے ایک رکن مولانا الوالبان حماد کا مضمون بعنوان’’مولانا ابن احسن اصلاحی‘‘چھپا۔ تقسیم ہند سے پہلے جماعت اسلامی کا مرکز بٹھا کوٹ میں تھا۔ اس وقت مضمون نگاروہاں گئے۔ ایک مجلس کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
مولانا بوالاعلیٰ مودودی نے رفقاء کے سامنے اس وقت کا ایک اہم سغلہ رائے مشورے کے لیے رکھا مسند مرکز جماعت دارالاسلام کی کسی اور بہتر مقام پر منتقلی کا تھا۔ اس لیے کہ بعض ایسے ناساحدوناسازگار حالات پیدا ہوگئے تھے۔ جس کے باعث مولانا مودودی کی تجویز تھی کہ مرکز کو موجودہ مقام سے ہٹاکر کسی دوسرے مقام پر منتقل کردیا جائے۔ مولانا اپنی تجویز کے سلسلے میں رائے طلب کرنے لگے، جتنے بھی حضرات مجلس میں موجود تھے۔ ان میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی صواب دید کے مطابق نرکرکی تبدیلی کے سلسلے میں مشورہ دیا۔ لیکن معلوم نہیں اس دن مولانا امین احسن اصلاحی کے مزاج کا کیا عالم تھا کہ وہ بالکل خاموش تھے۔ کچھ بول نہیں رہے تھے اور کوئی مشورہ بھی نہیں دے رہے تھے۔ مولانا مودودی ان سے براہ راست دریافت بھی کرائے تھے، اتنے میں کسی افق نے مولانا کو توجہ دلائی کہ مولانا ابن احسن اصلاحی سے بھی اس ضمن میں مشورہ لے لیا جائے۔ رفیق کی بات سن کر مولانا مودودی کی اک ظرافت بھڑک اٹھی، مولانا امین احسن کو مزاحیہ انداز میں چھیڑنے کی غرض سے مولانا مودودی فرمانے لگے’’ ارے بھائی مولانا اپنی احسن سے اگر میں مشورہ لوں تو وہ اپنی کے سوا اور کیا کہیں گے کہ مرکز جماعت کو ’’راہوں میں منتقل کردیا جائے‘‘ راہوں میں مولانا امین احسن کا عقد مسنون ہونے کی وجہ سے وہ مولانا کی سسرالی بن گیا تھا (صفحہ61)
مولانا ابوالاعلی مودودی ایک بذلہ سچ آدمی تھے جماعت اسلامی کے لوگ اکثر ان کے لطیفوں کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی تحسین کرنے میں مجھے ذاتی طور پر اس قسم کی لطیفہ گوئی سخت ناپسند ہے۔ میں ایسی مجلس میں نارمل طریقے پر نہیں بیٹھ سکتا جس میں صاحب مجلس سنجیدہ گفتگو کے درمیان لطیفے بکھیررہا ہو۔