Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
3دسمبر1998
میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اسلام کے دوراول میں اگر کیمرہ اور اخبار وجود میں آگئے ہوتے تو غزوہ نبوالمصطلق کا مشہور واقعہ ایک فتنہ بن جاتا۔ حضرت عائشہ جب صفوان بن معطل کے ساتھ تنہا آرہی تھیں تو ایک کیمرہ والا آدمی اس منظر کا فوٹو لی لیتا اور اگلے دن مدینہ کے اخبار میں ایک تصویر چھپتی جس کے نیچے لکھا ہوا ہوتا پیغمبر کی نوعمر بیوی ایک اجنبی نوجوان کے ساتھ۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں اگر کیمرہ اور اخبار ہوتے تو آپ کے مخالفین ایک عجیب و غریب فتنہ برپا کرسکتے تھے۔ قرآن کے بیان کے مطابق، حضرت موسیٰ نے جب لڑکیوں کے جانوروں کو پانی پلایاتو اسی کے بعد آپ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ پھر لڑکی کے والد کے کہنے پر ایک لڑکی آئی اور ان کو بلاکر اپنے گھر لے گئی۔ یہ غالباً رات کا وقت تھا۔ اس زمانہ میں اگر کیمرہ ہوتا تو کوئی شخص اس منظر کا فوٹو لے لیتا اور اگلے دن اخبار میں ایک تصویر چھپتی جس کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئےملتے: پیغمبر موسیٰ تنہا ایک اجنبی لڑکی کے ساتھ۔