Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29اپریل1998
دارالعلوم دیوبند کے تعلیم یافتہ دونوجوان ملاقات کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ علم کے معرفت کے اعلیٰ درجات کر پانا چاہتے ہیں تو آپ کو شخصیت پرستی کے خول سے نکلنا ہوگا۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے ایک مثال دی۔ امام ابوحنیفہ نے ملقحہ کے بارے میں کہا ہے کہ اگر صحابی ہونے کی فضیلت نہ ہوتو میں کہوں گا کہ علقمند(سرکالمی) جب راشد بن عمر (میرالی) سے زیادہ فقہ میں (لولا فضل الصحبۃ تقلت ان علقمۃ افقہ ھن عبداللہ بن عمر)
میں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر کی عظمت سادہ طور پر صرف شرف صحبت کی بناپر نہیں ہے۔ بلکہ خود ان کے ایک عظیم ڈائی عمل کی بناپر ہے۔ وہ عمل یہ ہے کہ عبداللہ بن عمر صحابی، قرآن کے الفاظ میں، فتح سے مسلم مومن بنے (الحدید10)یہ فرق بھی کوئی سادہ فرق نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ کو انہوں نے ان کے مستقبل کے اعتبار سے دیکھاہوں حال کے اعتبار سے تاریخ بتاتی ہے کہ تمام پیغمبروں کے ساتھ کم و بیش یہ حادثہ پیش آیا کہ ان کے معاصرین نے ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ اس کی وججہ یہ ہے کہ پیغمبر حال میں بظاہر ایک بشرہوتا ہے۔ اس کی وہ تاریخی عظمتیں اس کے ساتھ شامل نہیں ہوتیں جو ہمیشہ بعد کو شامل ہوتی ہیں۔ اس کی تاریخ میں محمد ﷺ واحد رسول ہیں جن کے ساتھ استثنا فی طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ ان کے معاصرین بڑی تعداد میں مومن بن گئے۔ میں وہ ضمانت ہے جو کسی صحابی کو امتیاز ی حیثیت عطا کرتی ہے۔
میں نے کہا کہ اگر آپ کا یہ حال ہو کہ آپ امام ابوحنیفہ سے اوپر اٹھ کر نہ سوچ سکیں تو آپ ان کے مذکورہ قول میں گم رہیں گے اور صحابیت سے متعلق مذکورہ حقیقت کو دریافت کرنے میں ناکام رہیں گے۔