Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20جنوری1998
آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (تنظیم اسلامی کانفرنس) مسلم ملکوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے اس کا8واں اجلاس11-9دسمبر1997کو تہران میں ہوا۔ اس میں55مسلم ملکوں کی سرکاری شخصیتیں اور نمائندے شریک ہوئے اس موقع پر عالمی مسلمانوں کے مسائل پر141قراردادیں زیربحث آئیں۔ ایک منظورشدہ قرارداد میں مسلمانوں کی دہشت گردی کی مذمت کی گئی۔ تاہم اس میں یہ وضاحت بھی کردی گئی کہ استعماری یا غیر ملکی قبضہ کے خلاف جدوجہد یا اپنے حق خودارادی کی بازیافت کی جدوجہد پر دہشت گردی کا شبہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ (افکار ملی نئی دہلی جنوری1998ء)
یقینی طور پر اس قرارداد کا کوئی بھی عملی فائدہ نہیں ہوگا اس لیے کہ ہر مسلمان یا مسلم گروہ اپنی متشددانہ ےکارروائیوں کو یہ کہہ کر اس سے بہت ٹیکنل کریگا اس کا نشہ دان حنون کی بازیابی کے لیے ہے جس کے لیے اس قراردادیں تشدد کی اجازت دی گئی ہے۔
صحیح بات یہ تھی کہ تنظیم اسلامی کانفرنس جائز تشدد اور ناجائز تشدد کی تفریق کا نظریہ پیش کرنے کے بجائے متشددانہ تحریک اور پرامن تحریک میں فرق کا نظریہ پیش کرتی وہ یہ بتاتی کہ متشددانہ تحریک ہر حال میں غلط ہے، خواہ وہ جائز حقوق کے نام پر کیوں نہ ہو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی تحریکوں کو لازمی طور پر صرف پر امن انداز میں چلائیں، وہ کسی بھی حال میں تشدد کا انداز اختیار نہ کریں پر امن انداز موجودہ زمانہ میں بجائے خود ایک عظیم طاقت بن چکا ہے مگر مسلم مفکرین کو اس کی کوئی خبر نہیں مہاتماگاندھی اور نیلسن منڈیلا ساؤتھ افریقہ کے کامیاب واقعات بھی انہیں اس معاملہ میں کوئی رہنمائی نہ دے سکے۔