Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
20اگست1998
حدیث میں آیا ہے کہ اپنی غلطی پر روؤ (وابک علیٰ خطئتک) یہ بہت بڑا متصیانہ عمل ہے کہ آدمی اپنی غلطیوں اور خطاؤں کا شدید اوس کرے یہاں تک کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم متفیانہ عمل ہے۔ مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگران سے کہا جائے کہ تم نے یہ غلطی کی ہے یا تم سے کہہ کہ سرزہوا ہے تو اس پر غصہ ہوجائیںگے۔ وہ اس پر روتے ہیں کہ ان کو غلط کہا جائے۔ وہ اس پر نہیں روتے کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کررکھی ہے۔
بیشتر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ خطاؤں اور گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں مگر اس پر ان کی آنکھوں سے آنسو نہیں نکلتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ انہوں نے کوئی غلطی کہی ہے۔ اس بناپر ان کے اندروہ شدید احساس خطا جاری نہیں ہوپاتا جو آنسو بن کر نکلتا ہے۔ ایسے لوگ بیک وقت دو نقصان میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے گناہ کیا ہے اور دوسرے یہ کہ اپنی بے افرادی کے خرچ کی بناپر وہ اس سے بھی محروم ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوکر روئیں اور ان کے آنسو ان کے گناہوں کی یا کسی (تطہیر و تزکیہ) کا ذریعہ بن جائیں۔