Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
29اگست1998
بخاری اور مسلم میں یہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من احب لقاء اللہ احب اللہ لفادہ (مشکوٰۃ المصابیح502/1) یعنی جو اللہ سے ملاقات کو پسند کرتاہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مومن وہ ہے جو یہ سوچ کر خوش ہوکہ جب میں مروں گا تو اللہ سے میری ملاقات ہوگی۔ اس قسم کی تشریح اس دوسری حدیث کے خلاف ہے۔ جس میں آپ نے فرمایا کہ: الایمان بین لرجاء والخوف (ایمان خوف اور امید کے درمیان) مومن پر کبھی خوف کی حالت طاری ہوتی ہے اور وہ اس اندیشہ میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ کہیں خدا اس کو اپنی رحمت سے دور نہ کردے۔ اور کبھی اس پر امید کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ خدا اس کو اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دے گا۔ اس بناپر مرورکو وہ حدیث کو مطلق معنوں میں لے کر اس کی تشریح نہیں کی جاسکتی۔