Badges mark quoted or attributed material (Qur'an, hadith, another author, an opposing view). Unbadged passages are Maulana Wahiduddin Khan's own words.
5اگست1998
عام طور پر لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ اگر ان کی پسند کے مطابق بات کی جائے تو وہ معقول طور پر اس کو سنتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی ایسی بات کہی جائے جو ان کی پسند کے خلاف ہو یا جس سے ان کی ذات نود میں آتی ہو تو وہ فوراً بھڑک اٹھتے ہیں، وہ سنجیدگی اور اعتدال کے ساتھ ایسی بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
یہی خاص وجہ ہے جس کی بناپر بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ذہنی ترقی کے بغیر مرجاتے ہیں۔ ہر آدمی کے دماغ میں ترقی کے اتحادوامکانات پیدائشی طور پر ہیں مگر ان امکانات کو وہی شخص استعمال کرتا ہے جو اس کے اوپر اٹھ کر یا تو کہر سنے کہ کون سی بات اس کے موافق ہے اور کون سی بات اس کے خلاف۔ کسی مفکر نے کہا ہے کہ آدمی کا سب سے بڑا دشمن وہ خود ہے۔ اس قول کا سب سے بڑا مصداق بلاشبہ کسی انسان کا مذکورہ بالا رویہ ہے۔